جانگلوس — پنجاب کی الف لیلی: ٹیلی ویژن پر
جنسیت کے فروغ کے آغاز کی کوشش
حسن سلیم اعوان
۰۳/۰۳/۲۰۲۳
جانگلوس: لکھنئو میں پیدا ہونے والے،
اشتراکی اور بائیں بازو کے فلسفے سے متاثر شوکت صدیقی کا دو ہزار صفحات اور تین
جلدوں پر مشتمل ایک ضخیم ناول ہے۔ یہ ناول ۱۹۷۷ء اور ۱۹۹۴ء کے درمیان
تحریر کیا گیا لیکن حالات اور واقعات کی ترتیب ۱۹۵۴ کے آس پاس کے دور کی
ہے۔ ۸۰ کی دہائی میں
پاکستان ٹیلی ویژن نے جانگلوس کی ڈرامائی تشکیل کے بعد نشر کرنا شروع کیا لیکن محض
۱۸ اقساط نشر
کرنے کے بعد یہ ڈرامہ بند کر دیا۔ نمایاں
اداکاروں میں شبیر جان، سلیم ناصر، ایم وارثی، اور شگفتہ شامل تھے۔ جانگلوس سسنکرت
زبان کا لفظ ہے۔ جس کے معنی ، جنگلی، وحشی،
غیر مہذب ، اجڈ اور گنوار کے ہیں۔
یہ ناول پاکستان اور ہندوستان کی تخلیق کے
نتیجے میں ہونے والی خونریز ہجرت، جاگیردارانہ نظام، نچلے طبقے کا سماجی، معاشی
اور سیاسی استحصال، استبداد، استحصال زدہ طبقات کا جرائم کی جانب راغب ہونا،
مجرموں کی نفسیات، ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والوں کی آبادکاری کے نام پر زمینوں
اور جائیدادوں کی وسیع درجے کی خردبرد، معاشرے میں پائی جانے والی ضعیف الاعتقادی
اور خواتین کے ہر طرح کے استحصال جیسے موضوعات کا ہی احاطہ نہیں کرتا بلکہ پنجاب،
خاص طور پر وسطی پنجاب، کی انتہائی خوبصورت دیہی ثقافت اور بود،باش کو بہت مفصل پیرائے
میں بیان کرتا ہے۔ وسطی پنجاب کی علاقائی اور جغرافیائی تقسیم (ماجھہ، دوآباہ وغیرہ)،
زمیںن کی اقسام، وسطی پنجاب کی فصلیں، کاستکاری کے طریقے اور مسائل، موسم اور موسمی
مسائل، شادی، بیاہ اور خوشی، غمی کی رسومات، میلے، پنجابی زبان کے مختلف لب،لہجے،
روائیتی کھانے اور مشروبات، ملبوسات، ساز، گیت، لوک موسیقی، ذات اور برادریاں،
مختلف ذات اور برادری کے لوگوں کی آپس کی دشمن داریاں، مہمان نوازی، ذات برادریوں
کی تاریخ، ان کی آپس کی رشتے داریاں استوار کی کرنے کی تاریخ، سیاسی جوڑ،توڑ،
ذرائع آمد،رفت، مختلف قصبوں کی تاریخی حیثیت اور طرز تعیمر وغیرہ جیسے تمام
موضوعات کو انتہائی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ دوران مطالعہ قاری کبھی کبھار بجا
طور پر غیرضروری طوالت سے اکتا سکتا ہے۔ معروف نقاد احمد سہیل نے جانگلوس کو پنجاب
کی الف لیلی قرار دیا ہے۔
ہم نے پچھلے تین دنوں میں اس ضخیم ناول کو
جو کئی سال پہلے بچپن میں ایک بار سرسری طور پر پڑھا تھا، دوبارہ لیکن بغور پڑھا
ہے۔ چند دن پہلے دو مختلف لیکن ایک ہی مرکز کے گرد گھومتے موضوعات پر اپنے خیالات
قلمبند کرنے کی کوشش کی۔ ایک موضوع موجودہ دور میں معلومات اور ذرائع ابلاغ کو
بطور ہتھیار استعمال کرنا اور دوسرا موضوع پاکستانی عوام کی ذہن سازی، عمومی رائے،
اور نظریات کو تبدیل کرنے سے متعلق تھا۔ دوسرا مضمون کامسیٹس اور علامہ اقبال یونیورسٹی
کے امتحانات میں پوچھے گئے سوالات کے پس منظر میں تھا۔ اسی دوران ایک سوال بار بار
ذہن میں آ رہا تھا کہ میڈیا کے پاکستانی معاشرے میں جنسیت کے پھیلاؤ میں باقاعدہ
کردار کا آغاز کب ہوا تھا۔ ہم محقق، ادیب اور نقاد ہر گز نہیں ہیں۔ اس لیئے کوئی
دعوی بھی نہیں کر رہے۔ لیکن ہماری ناقص رائے میں جانگلوس وہ ڈرامہ ہے جو اس کام کا
نکتہ آغاز تھا جس کی اٹھان ہم آج کل اپنے ٹیلی ویژن یا موبائل فون کی اسکرین پر دیکھتے
ہیں۔
اگر آپ یہ ناول پڑھ چکے ہیں تو آپ کو ناول
نگار کی جنسیت کو ہر پانچ دس صفحات کے بعد حد سے زیادہ معمول کا عمل بنانے کے بارے
میں ضرور آگاہی ہو گی۔ اگر ہم اسے معاشرتی برائی، یا استحصالی، استبدادی طریقہ
سمجھ کر نظر انداز بھی کرنا چاہیں تو ناول نگار کی غیر ازدواجی تعلقات کی (جسے
ناول کے ایک باب میں 'اسسپینس نائٹ' کے نام سے بیان کیا ہے) کی دانستہ کوشش کو نظر
انداز نہیں کر سکتے۔ جس کے لیئے عجیب، غریب قسم کی توجیحات پیش کی گئی ہیں۔ بات
بہت سادہ سی ہے۔ جنسیت کا عمل ایک جسمانی، حیاتیاتی ضرورت ہے۔ بگاڑ تب پیدا ہوتا
ہے جب اس جسمانی، حیاتیاتی ضرورت سے بڑھا کر نفسیاتی اور ذہنی ضرورت بنا لیا جائے۔
ٹیلی ویژن اسکرین کے ذریعے پاکستانی معاشرے
میں جنسیت کو جسمانی، حیاتیاتی ضرورت سے بڑھا کر نفسیاتی ضرورت، ذہنی عیاشی
اور ایک ناقابل اعتراض عمل کے طور پر پیش
کرنے کا آغاز ۸۰ کی دہائی میں
"جانگلوس" کے نشر کرنے سے ہوا۔
اگر ہم کہیں غلط ہیں تو تصحیح کرنے کے لیئے
آپ کے شکرگزار ہوں گے۔