شہید محمد نوید
صادق سیال — گمنام سے نام تک کا سفر
جنوری
کی چار تاریخ، بروز بدھ، آپ نے یہ خبر سنی ہو گی کہ آئی ایس آئی کے انسداد دہشت
گردی کے لیئے ملتان میں تعینات ڈائرکٹر، محمد نوید صادق سیال کو ان کے ایک ساتھی
اانسپکٹر ناصر کے ہمراہ خانیوال کے قریب شہید کر دیا گیا۔ میں نوید صادق سیال آپ سے
مخاطب ہوں۔
گزشتہ
پندرہ سالوں سے میں صرف ایک ہی کام کرتا آ رہا تھا۔ ہر روز اپنے بیوی بچوں اور دیگر
عزی،اقارب کو گھر چھوڑ کر، کبھی اکیلا اور کبھی اپنے اپنے ادراے کے چند افراد کے
ساتھ، اپنے ہدف کے پیچھے نامعلوم، دور دراز اور انجان علاقوں میں نکل جاتا تھا۔
قبائلی علاقہ جات، گلگت کے پہاڑ، کشمیر کے برف زار، تھل اور چولستان کے صحرا،
بلوچستان کے سنگلاخ اور خشک چٹانی سلسلے، افغانستان، ایران اور ہندوستان کی سرحدیں،
سندھ میں کچے کے علاقے، اندرون کے دیہاتوں میں، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی
اور کوئٹہ جیسے شہروں کی سڑکوں پر ۔۔۔ غرضیکہ ملک کا کوئی کونہ ایسا نہیں جہاں میں
اپنے پیشہ ورانہ فرائض اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیئے نہ پہنچا ہوں۔ سر پر کفن
باندھے، موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کئی کئی دن تک انتہائی نامساعد حالات،
محدود وسائل کے ساتھ دیگر ناقابل بیان اور ناقابل برداشت سختیاں جھیلتا رہتا۔ میرے
ملک اور اس ملک میں رہنے والے ہر فرد کی حفاظت کے لیئے بے غرض اور دیوانہ وار کام
کیا۔ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیئے وقت اور مقام کی پرواہ کیئے بغیر
ان دیکھے دشمن سے چومکھی لڑائی لڑتا رہا۔
میرے
پیشے کا سب سے پہلا تقاضا میرا گمنام اور خاموش رہنا تھا۔ سو میں گمنام اور خاموش
ہی رہا۔ چونکہ میں گمنام اور خاموش تھا اس لئے اپنے کارنامے میں کسی کو بتا نہ
سکا۔ یقین مانیئے، ایسی کبھی کوئی خواہش بھی دل میں پیدا نہیں ہوئی کہ محض اپنے
فرائض کی ادائیگی کی تشہیر کی جائے۔ مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ میرے ان فرائض کی اپنی
بساط سے بڑھ کر ادائیگی کرنے کا کوئی گواہ نہیں ہے، اس کا سب بڑا گواہ اس کائنات
کا مالک اور اس کے بعد میرے وہ ساتھی جنھوں نے میرے ساتھ کام کیا ہے۔ مگر وہ بھی
خاموش اور گمنام ہی تو ہیں۔ وہ بھی آپ کو کیسے بتا پائیں گے کہ میں نے اپنے ملک
اور آپ سب کے لیئے اپنی بساط سے بھی بڑھ کر کیا کچھ کیا ہے؟ خدا بھی اس کام کے لیئے
زمین پر تو نہیں آ سکتا۔ رہ گئے میرے بیوی بچے، تو وہ میرے مرنے کے بعد بولنے کے
قابل ہی نہیں رہے ہوں گے۔ ان بیچاروں کو کئی روز تک یہی علم نہیں ہوتا تھا کہ میں
زندہ بھی ہوں یا نہیں۔
اپنے
فرائض کی ادائیگی میرا نصب العین تھا۔ کوئی بھی انسان کسی بھی مقصد کی خاطر جو بڑی
سے بڑی قربانی دے سکتا ہے، وہ اپنی جان دینا ہے۔ اور آپ سب نے دیکھا کہ میں نے اور
میرے ساتھی نے، اس ملک اور آپ سب کے لیئے، اپنی جان دے دی۔ میرا صرف اتنا سا سوال
ہے کہ میں نے خود کو اس مٹی پہ قربان کر دیا، آپ نے میری خون میں لت پت تصویروں کو
دیکھ کر ان پر کیا ردعمل دیا؟ گمنام ہونے کے
ناطے میری اپنی کوئی آواز نہیں تھی۔ اور جن کی آواز تھی، انہی کی آواز کو میری
آواز سمجھ لیا گیا۔ مگر وہ میری آواز نہیں تھی۔ میری تو زبان تھی ہی نہیں، پھر کیسے
اس آواز کو آپ نے میری آواز مان لیا؟
میری
خدمات، میری جان کی قربانی کا تمسخر اڑایا گیا۔ وطن اور آپ کی خاطر جان دینے پر،
بجائے مجھ سے ہمدردی کے، میرے محکمے کے خلاف کیچڑ اچھالنا شروع کر دیا۔ ماضی کی
غلطیوں اور میرے محکمے کے سربراہان سے اپنے اختلافات یا ناپسندیدگی کا اظہار آپ ہم
جیسے بے زبان لیکن دیانتدار اور فرض شناس لوگوں کی شہادت کا مزاق اڑا کر کریں گے؟
دلیر، جری، مخلص اور جانباز سپاہیوں کی یوں رسوائی کریں گے؟
آپ
نے تعلیم یافتہ، باشعور اور فہم،فراست رکھتے ہوئے یہ سب کیا۔ محض اپنی ذاتی پسند،
ناپسند یا ادارے کے سربراہان سے شکایات کی وجہ سے؟ میری پندرہ سالہ جد،جہد جس کا میں
نے کبھی صلہ نہیں مانگا، آپ اسے تسلیم بھی نہ کیجیئے لیکن میری ایک عظیم مقصد کے لیئے
جان دینے کو مذاق کیوں بنا دیا؟ یہ سب مجھے گالی دینے جیسا ہے۔ مجھے، میرے بچوں
اور خاندان کو یہ احساس اور تاثر ملا ہے جیسے میں اپنی زندگی رائیگاں ہی گزار گیا۔
اور یہ احساس کسی گالی سے کم نہیں۔
جو
ملک کی خاطر جان کی قربانی دیں گے ان کو، ان کے خاندان کو اگر عزت نہیں دے سکتے تو
کیا یوں ان کی شہادت کو مذاق بنا دیں گے؟ جو وطن کیلئے جانیں دے رہے ہیں اور آج بھی دینا چاہتے ہیں، ان کے بچوں کو آپ کیا پیغام
دینا چاہتے ہیں؟فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ پر میرے یتیم ہو جانے والے بچے، شہید کی
اولاد ہونے کے باوجود کیا سوچیں گے؟
میں
تو نہیں رہا! میں اپنی جان، جس کی حرمت اس کائنات کے خالق نے طے کی ہے، اس ملک پر
وار گیا۔ اس سے زیادہ بڑی قربانی میں کیا دے سکتا تھا؟ لیکن خدارا! جو رہ گئے ہیں
ان کی قدر کیجیئے، ان کی یوں تذلیل مت کیجئے گا۔ کیونکہ جو قوم اپنے شہدا اور
بہادروں کی قدر نہیں کرتی، ان کا انجام آپ کو یاد دلانے کی ضرورت نہیں۔
شہید
کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
لہو
ہے جو شہید کا وہ قوم کی زکواۃ ہے
گمنام
سے نام تک کا سفر، جو آخرکار تمام ہوا۔
شہید
محمد نوید صادق سیال
No comments:
Post a Comment